پاکستان

انا عربی سے

اسلامی جمہوریۂ پاکستان جنوبی ايشيا ميں واقع ہے۔ پاکستان کے مشرق ميں بھارت، شمال مشرق ميں چين اور مغرب ميں افغانستان اور ايران اور جنوب ميں بحيرہ عرب واقع ہيں۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ اور يہ نام چودھری رحمت علی نے تجويز کيا تھا۔

اسلامی جمہوریۂ پاکستان
Image:Pakistan flag medium.png Image:pakarms22.png
ايمان اتحاد نظم
Image:LocationPakistan.png
قومی زبانيں اردو
دار الحکومت اسلام آباد
سب سے بڑا شہر کراچی
صدر مملکت جنرل پرويز مشرف
وزير اعظم شوکت عزيز
رقبہ


8،03،940 مربع کلو ميٹر
آبادی


سن 2003



15،06،94،740


آزادی 14 اگست 1947، برطانيہ سے
مملکت 23 مارچ 1956
سکہ پاکستانی روپيہ (پی کے آر)
وقت عالمی منضم وقت (يو ٹی سی) +5
قومی ترانہ پاک سرزمين شاد باد
انٹرنيٹ کوڈ .پی کے
ٹيليفون کوڈ 92

فہرست

تاريخ

سن 1947 سے پہلے بھارت، پاکستان اور بنگلہ ديش برطانوى كالونى تهےاور ہندوستان يا انڈيا کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ہندوستان کی آزادی (انگريزوںسے) کی تحريک کے دوران ہندوستان کے مسلمانوں نے اپنے لۓ ايک عليحدہ ملک کا مطالبہ کيا۔ اس مطالبے کے تحت تحريک پاکستان وجود ميں آئ۔ اس تحريک کی قيادت محمد علی جناح نے کی۔ 14 اگست 1947 کو پاکستان وجود ميں آيا۔

1947 سے لے کر 1948 تک پاکستان کو بڑی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کئ اندورنی اور بيرونی مشکلات نے پاکستان کو گھيرے رکھا۔ 1948 ميں جناح صاحب کی وفات ہو گئ۔ ان کے بعد حکومت لياقت علی خان کے ہاتھ ميں آ گئ۔ 1951 ميں لياقت علی خان کو شہید کر ديا گيا۔ 1951 سے 1958 تک کئ حکومتيں آئيں اور ختم ہو گئيں۔ 1956 ميں پاکستان ميں پہلا آئين نافذ ہوا۔ اس کے با وجود سياسی بحران کا نتيجہ يہ ہوا کہ 1958 ميں پاکستان ميں مارشل لاء لگ گيا۔

ایوب دور میں پاکستان میں ترقی تو ہوئی لیکن مشرقی پاکستان دور ہوتا گیا۔ 1963 میں پاکستان کے دوسرے آئین کا نفاذ ہوا۔ 1965 میں ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کر دیا لیکن شدید شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ مشرقی پاکستان کے حالات آہستہ آہستہ بگڑتے گۓ۔ آخرکار1971 میں ہندوستان کے ایماء پر مشرقی پاکستان نے ایک علیحدہ ملک بنگلہ دیش بنا لیا۔

1972 سے لے کر 1977 تک پاکستان میں پی پی پی کی حکومت تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو ّپاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ اس دور میں سوشلسٹ اور پین اسلامک عنصر بڑھا۔ اس دور میں پاکستان میں نيشنلائيزيشن ہوئ۔ اس دور کے آخر ميں حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے درميان کشيدگی بڑھ گئ اور اس کے نتيجے ميں 1977 ميں دوبارہ مارشل لاء لگ گيا۔

اگلا دور تھا 1977 تا 1988۔ اس دور ميں پاکستان کے صدر ضياءالحق تھے۔ افغانستان ميں جنگ کی وجہ سے پاکستان کو بہت امداد ملی۔ اسی دور ميں 1985 کے انتخابات ہوۓ اور جونيجو حکومت بنی۔ جسے 1988 میں ضیاء الحق نے برطرف کر ديا- 1988 ميں صدر مملکت کا طيارہ گر گيا اور پاکستان ميں پھر سے جمہوريت کا آغاز ہو گيا۔

اس کے بعد 1988 ميں انتخابات ہوۓ اور بينظير بھٹو کی قيادت ميں پی پی پی اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ صدر غلام اسحاق خان نے حکومت کو باطرف کر ديا۔ 1990 ميں نواز شريف کی قيادت ميں آئ جے آئ اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ 1993 ميں يہ حکومت بھی برطرف ہو گئ۔

اس کے بعد پاکستان کے نۓ صدر فاروق لغاری تھے۔ اگلے انتخابات 1993 ميں ہوۓ اور ان ميں دوبارہ پی پی پی اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ يہ حکومت بھی بر طرف ہو گئ۔ 1997 ميں انتخابات کے بعد دوبارہ نواز شريف کی قيادت ميں مسلم ليگ ن اور اس کی حليف جماعتيں اقتدار ميں آئيں۔ اس حکومت کے آخر ميں سياسی اور فوجی حلقوں ميں کشيدگی بڑھ گئ اور اس کا نطيجہ يہ نکلا کہ 1999 ميں دوبارہ فوجی حکومت آ گئ۔ صدر مملکت پرويز مشرف بنے اور 2001 ميں ہونے والے انتخابات کے بعد وزير اعظم طفر اللہ جمالی بنے۔ 2004ميں وقت كے جنرل مشرف نے شوكت عزيز كو وزير اعظم بنانے كا فيصله كيا 9 دسمبر 2004 تا حال شوكت صاحب وزير اعظم ەيں

سياست

پاکستان ايک وفاقی جمہوريت ہے۔ 1999 ميں صدر پرويز مشرف نے حکومت کو برطرف کر ديا اور چيک ايگزيگٹو بن گۓ۔ 2000 ميں ملک بھر ميں بلدياتی انتخابات ہوۓ۔ يہ پاکستان کو دوبارہ جمہوريت کی طرف واپس لانے کا پہلا قدم تھا۔ اس کے بعد 2001 ميں مجلس شورا کے انتخابات ہوۓ۔ پاکستان کے نۓ وزير اغظم ظفر اللہ خان جمالی بنے۔

پاکستان کی اہم جماعتوں ميں مسلم ليگ ق اور ايم کيو ايم اقتدار ميں ہيں۔ ايم ايم اے اسلامی جماعتوں کا ايک پليٹفارم ہے۔ اس کے علاوہ مسلم ليگ ن اور پی پی پی پی اختلاف ميں ہيں۔ حذب اختلاف کی کوشش ہے کہ پاکستان ميں مکمل اقتدار مجلس شورا کے پاس ہو۔ حذب اقتدار کی کوشش ہے کہ صدارتی اختيارات ميں اظافہ ہو۔


صوبہ جات

Image:Pakistan.PNG

پاکستان ميں 4 صوبے، 2 وفاقی علاقے اور پاکستانی کشمير کے 2 حصے ہيں۔

صوبے

وفاقی علاقے

پاکستانی کشمير

جغرافيہ

پاکستان جنوبی ايشيا کے شمال مغربی حصے ميں واقع ہے۔

پاکستان کے مشرقی علاقے ميدانی ہيں اور مغربی اور شمالی علاقے پہاڑی ہيں۔ پاکستان کا سب سے بڑا دريا درياۓ سندھ ہے۔ يہ دريا پاکستان کے شمال سے شروع ہوتا ہے اور سرحد، پنجاب اور سندھ سے گزر کر سمندر ميں گرتا ہے۔ سرحد کے مشرقی علاقے، سندھ کے وسطی علاقے اور پنجاب کے شمالی، وسطی اور وسطی جنوبی علاقے ميدانی ہيں، نہری ہيں اور آباد يا زير کاشت ہيں۔ سندھ کے مشرقی اور پنجاب کے جنوب مشرقی علاقے ريتيلے سحرا ہيں۔ زيادہ تر بلوچستان پہاڑی سلسلوں پر مشتمل ہے ليکن سبی کا علاقہ ميدانی اور سحرائ ہے۔ سرحد کے مغربی علاقوي ميں نيچے پہاڑ ہيں جبکہ شمالی سرحد اور شمالی علاقہ جات ميں دنيا کا سب سے اونچا پہاڑی سلسلہ واقع ہے۔

معيشت

پاکستان تيسری دنيا کا ايک ترفی پزير ملک ہے۔ پاکستان کے اندرونی معاملات ميں فوج كى بيجا مداخلت اور بيرونی کشيدگی کی وجہ سے ملک کی معيشت زيادہ ترقی نہيں کر سکی۔ پاکستان کی معيشت کا اب بھی زراعت پر بہت زيادہ انحصار ہے۔ ملكـ ميں اسمگلنگ كى وجه سے پاکستان کا صنعتی شعبہ بھی زيادہ مستحکم نہيں ہے۔


مگر حكومتى پروپيگينڈا هے كه ! پاکستان کی معيشت (جو کہ کافی کمزور سمجھی جاتی تھی) نے 911، عالمی معاشی پستی، افغانستان جنگ، پانک کی کمی اور بھارت کے ساتھ شديد کشيدگی کے با وجود بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کيا۔ ابھی پاکستان کی معيشت مستحکم ہے اور تيزی سے بڑھنا شروع ہو گئ ہے۔

کراچی کی اسٹاک ايکسچينج کی کے ايس سی انڈکس گزستہ دو سالوں سے دنيا بھر ميں سب سے بہترين کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔

اعداد و شمار

پاکستان آبادی کے لحاظ سے دنيا کا چھٹا سب سے بڑا ملک ہے اور اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی آبادی بہت تيزی سے بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کے ٩٦،٧ فيصد شہری مسلمان ہيں جن ميں سے تقريبا ٢٠ فيصد اہل تشیع ٧٦ فيصد اہل سنت اور پانچ فيصد ديگر فرقوں سے تعلق رکھتے ہيں۔ تقريبا ايكـ فيصد پاکستانی ہندو اور اتنے ہی پاکستانی عیسائی ہيں۔ ان کے علاوہ کراچی ميں پارسی، پنجاب و‌سرحد ميں سکھ اور شمالی علاقوں ميں قبائلی مذاہب کے پيرو کار بھی موجود ہيں۔

پاکستان کی قومی زبان اردو ہے۔ ليکن زيادہ تر دفتری کام انگريزی ميں کۓ جاتے ہيں۔ پاکستان کے خواص بھی بنيادی طور پر انگريزی کا استعمال کرتے ہيں۔ پاکستان ميں تمام تر اعلیٰ تعليم بھی انگريزی ميں ہی دی جاتی ہے۔ با وجود اس کے اردو پاکستان کی عوامی و قومی زبان ہے۔ اردو کے علاوہ پاکستان ميں کئ اور زبانيں بولی جاتی ہيں، ان ميں پنجابی، سرائکی، سندھی، گجراتی، بلوچی، براہوی، پشتو اور ہندکو زبانیں قابلِ ذکر ہيں۔

پاکستان ميں مختلف قوموں سے تعلّق رکھنے والے لوگ آباد ہيں، ان ميں زيادہ نماياں پنجابی، سندھی، پٹھان، بلوچی اور مہاجر ہيں۔ ليکن وقت کے ساتھ ساتھ ان کے درميان فرق کم ہوتا جا رہا ہے۔

تہذیب

پاکستان کی بہت قديم اور رنگارنگ تہذيب ہے۔ پاکستان کا علاقہ ماضی ميں دراوڑ، آريا، ہن، ايرانی، يونانی، عرب، ترک اور منگول لوگوں کی رياستوں ميں شامل رہا ہے۔ ان تمام تہذيبون نے پاکستان کی موجودہ تہذيب پر بہت گہرا اثر چھوڑا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف صوبوں ميں لباس، کھانے، زبان اور تمدن کا فرق پايا جاتا ہے۔ اس ميں اس علاقوں کی تاريخی عليحدگی کے ساتھ ساتھ موسم اور آب و ہوا کا بھی بہت اثر ہے۔ ليکن ايک اسلامی تہذيب کا حصہ ہونے کی وجہ سے اس ميں کافی تہذيبی ہم آہنگی بھی موجود ہے۔

پاکستان ميں ٹی وی ڈرامہ ديکھنے کا بہت رواج ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بھارتی فلميں بھی بہت شوق سے ديکھی جاتی ہيں اور پاکستان کی اپنی فلموں سے کہيں زيادہ پسند کی جاتی ہيں۔

پاکستان ميں بہت مختلف قسم کی موسيقی ملتی ہے۔ کلاسيکی موسيقی، نيم کلاسيکی موسيقی، لوک موسيقی اور اس کے ساتھ ساتھ جديد پاپولر ميوزک سب ہی کے پاکستان ميں بلند پايہ موسيقار موجود ہيں۔ پاکستان دنيا بھر ميں قوالی کا مرکز ہے۔

پاکستانی تہذيب ميں مغربی عناصر بڑھتے جا رہے ہيں۔ يہ امراء اور روساء ميں اور بڑے شہروں ميں زيادہ نماياں ہے کيونکہ مغربی اشياء، ميڈيا اور تہذيب تک ان کی زيادہ رسائ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ايک بڑھتی ہوئ تحريک ہے جو کہ مغربی اثرات کو کم ديکھنا چاہتی ہے۔ کچھ جکہوں ميں اس تحريک کا زيادہ جھکا‏ؤ اسلام اور کچھ ميں روايات کی طرف ہے۔

پاکستانيوں کی بڑی تعداد امريکہ، برطانيہ، آسٹريليا، کنيڈا اور مشرق وسطی ميں مقيم ہے- ان بيرون ملک پاکستانيوں کا پاکستان پر اور پاکستان کی بين الاقوامی تصوير پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔ ان لوگوں نے ماضی ميں پاکستان ميں بہپ سرمايہ کاری بھی کی ہے۔

پاکستان کا سب سے پسندينہ کھيل کرکٹ ہے۔ پاکستان کی کرکٹ ٹيم دنيا کی اچھی ٹيموں ميں شمار ہوتی ہے۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ پاکستان ميں ہاکی بھی بہت شوق سے کھيلی جاتی ہے۔ ەاكى جو كه پاكستان كا قومى كهيل بهى هےـ چوگان (پولو) پاکستان کے شمالی علاقہ جات كے لوگوں كا كهيل هے اور اس كهيل كى پيدايش بهى يهيں هوئى اور آج تک ان علاقوں ميں بہت شوق کے ساتھ کھيلی جاتی ہے۔

تعطلات

تعطيل نام وجہ
23 مارچ يوم پاکستان سن 1940 میں اس دن منٹو پارک جو کہ آج کل اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی
01 مئ عالمی مزدوروں کا دن
14 اگست يوم آزادی اس دن پاکستان انگريزوں سے آزاد ہوا
6 ستمبر يوم دفاع پاکستان کی افواج نے ملک کا دفاع کيا
11 ستمبر وفات قائد قائد اعظم کی وفات کا دن
25 دسمبر ولادت قائد قائد اعظم کی ولادت کا دن
10 ذو الحج عيد الاظہى بڑی عيد حضرت ابراہيم کی قربانی کی ياد ميں
01 شوال عيد الفطر؛ چھوٹی عيد رمضان کے ختم ہونے پر اللہ كى نعمتوں كى شكرگزارى كا دن

بیرونی روابط